April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/viscomemoryfoammattress.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Pakistani paramilitary soldiers stand at the Pakistan-Afghanistan Torkham border crossing in the Khyber Pakhtunkhwa province on August 3, 2021. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)

پاکستان کی وزارت تجارت کے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے دوران سرحدوں سے آمد و رفت کے لیے قائم کردہ کراسنگ پوائنٹس، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو درپیش مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد پیر کے روز کابل جائے گا۔

یہ اہم بات ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ان دنوں کشیدگی کی لہر ہے اور سرحدوں پر ہی نہیں سرحدوں کے اندر تک کارروائیاں جاری ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے دوطرفہ کشیدگی کی یہ پہلی بڑی لہر جاری ہے۔ اس کے نتیجے میں سفارتی تعلقات پر اثر پڑنے کے ساتھ ساتھ تجارتی شعبے میں بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جس سے دونوں طرف کے تجارتی و کاروباری طبقات سخت پریشانی کا شکار ہیں۔

رمضان المبارک اور عید کے دنوں میں اس تجارتی خلل کا نقصان عام لوگوں پر بھی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزارت تجارت پاکستان کا وفد سیکرٹری تجارت کے زیر قیادت کل پیر کے روز کابل کا دورہ کرے گا۔ جہاں طالبان حکومت کے تجارتی شعبے کے سربراہ کے علاوہ متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے بھی ملاقاتوں کا امکان ہے۔

ان ملاقاتوں کا مقصد دونوں طرف سے تجارتی سامان کی آمد و رفت اور تبادلے کو ہموار رکھنا ہے۔ تاکہ متعلقہ منڈیوں اور صارفین کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔

پاکستان کے برآمدی شعبے کی ترقی کے لیے کام کرنے والے ادارے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد زبیر موتی والا نے بتایا ہے کہ حکومت تاجروں کی مشکلات بڑھنے سے پہلے انہیں روکنا چاہتی ہے۔ اس لیے حالیہ کشیدگی کے ماحول کے باوجود پاکستان کا سرکاری تجارتی وفد کابل جا رہا ہے۔ انہیں توقع ہے کہ کشیدہ ماحول میں جانے والا تجارتی وفد دوطرفہ تجارتی آسانیوں میں اضافے کا باعث بنے گا۔ جو دنوں طرف کے تاجروں کے حق میں ہوگا۔

دوسری جانب افغانستان کی وزارت تجارت کے ترجمان اخوند زادہ عبدالسلام جواد نے بھی پاکستان کے اعلیٰ وفد کی پیر کے روز کابل متوقع آمد کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ تجارتی شعبے کے امور کو پاکستان کی طرف سے خوامخواہ پچیدہ بنایا گیا ہے۔

اخوند زادہ کے مطابق پاکستان سامان لانے لے جانے والے ٹرکوں میں غیر ضروری تاخیر کو روکنے اور بھاری کنٹینرز کی آمد و رفت میں دفتری نوعیت کی رکاوٹوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔

واضح رہے ایک سال قبل افغان وزارت تجارت کے اسی ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان سے روزانہ تقریباً ڈیڑھ سے دو ہزار ٹرک پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ لیکن پاکستان نے ایسے قوانین متعارف کرا کر اس تجارتی آسانی کو مشکل میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب پاکستانی ٹرکوں کی آمد 700 تک رہ گئی ہے۔

پاکستان کے ساتھ تجارتی پچیدگیوں کے باعث اخوند زادہ عبدالسلام جواد نے کہا ‘افغانستان کو ایرانی بندرگاہ چا بہار کی طرف رجوع کرنا پڑا ہے اور چا بہار کے راستے افغان تجارت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی وفد کے ساتھ روایتی دفتری اور تکنیکی رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر پیش آنے والے واقعات اور تجارت کے ٹھنڈا پڑ جانے کے مسائل کو زیر بحث لائیں گے۔ تاکہ سب سلسلہ پورے ہموار انداز میں آگے بڑھے اور ہمارے تاجروں کو نقصان برداشت نہ کرنا پڑے۔

افغانستان کے صوبہ ننگر ہار سے متعلق چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رکن حاجی عثمان نے کہا ہے کہ ‘دونوں ملکوں کے درمیان سلامتی کے مسائل تجارت کے ہموار بہاؤ میں رکاوٹ ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کو اعتماد بحال کرنے اور تجارتی مواقع بڑھانے کے لیے زمین ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *