April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/viscomemoryfoammattress.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

معروف ہسپانوی باورچی خوزے آندریس کی امدادی تنظیم ورلڈ سینٹرل کچن کی جانب سے سامان بحیرہ روم کے راستے سے غزہ پہنچایاگیا ہے۔

This relief shipment by sea has been sent by an organization from Spain. Photo: INN

سمندر کے راستے یہ امدادی کھیپ اسپین کی ایک تنظیم نے روانہ کی ہے۔ تصویر : آئی این این

سمندری راستے سے پہلی بار امدادی سامان کی ایک کھیپ غزہ پٹی کے جنگ زدہ فلسطینی علاقے میں پہنچ گئی ہے۔ یہ ۲۰۰؍ ٹن غذاؤں اور دیگر سامان پر مبنی امداد بحفاظت غزہ پٹی کے ساحل پر اتار لی گئی ہیں اور ان کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ ہسپانوی امدادی تنظیم ورلڈ سینٹرل کچن (ڈبلیو سی کے) کی جانب سے پہنچایا گیا یہ امدادی سامان بحیرہ روم کے راستے سے غزہ پہنچا ہے۔ 
 ’اوپن آرمز ‘نامی ایک بحری جہاز قبرص کی بندرگاہ لارناکا سے منگل کے روز روانہ ہوا تھا اور جمعہ کو غزہ کے ساحل کے قریب کھلے پانی میں پہنچا تھا۔ معروف ہسپانوی باورچی خوزے آندریس کی بنائی ہوئی عالمی امدادی تنظیم ورلڈ سینٹرل کچن اس وقت ایسا ہی ایک اور امدادی جہاز لارناکا کی بندرگاہ پر تیار کر رہی ہےگا۔ مقامی پارٹنرز کے ہمراہ یہ امدادی تنظیم غزہ میں ۶۰؍ کمیونٹی کچن چلا رہی ہے۔ اس تنظیم کے مطابق اب تک۱۵۰۰؍ ٹرکوں پر مشتمل ۳۷؍ ملین خوراکیں مہیا کرائی جا چکی ہیں۔ 
 یورپی یونین بھی اسی سمندری کوریڈور سے امدادی سامان غزہ کی ۲؍ ملین سے زائد آبادی کو مہیا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج غزہ پٹی کے ساحلی علاقے میں ایک عارضی بندرگاہ قائم کر رہی ہے تاکہ امدادی سامان کی ترسیل میں تیزی آئے۔ 
 دوسری جانب جرمنی کی جانب سے پہلی بار فضائی راستے سے غزہ میں امدادی سامان پہنچایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جرمن فضائیہ کے دو سی ون تھرٹی ہرکیولیس ٹرانسپورٹ طیاروں کی مدد سے ۳۶؍ ٹن امدادی سامان غزہ میں گرایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ امدادی طیارے اردن سے پرواز بھر رہے ہیں۔ اس سے قبل امریکہ اور فرانس بھی فضا سے خوراک اور دیگر سامان غزہ پٹی میں گرانے کی سرگرمیوں میں مصروف رہے ہیں۔ بہت سی بین الاقوامی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ میں صورتحال انتہائی نازک ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں بھوک ایک بحرانی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ 
غزہ کی آبادی کا بہت بڑا حصہ بے گھر
 غزہ کی تقریباً ۲۲؍ لاکھ کی مجموعی آبادی میں سے نصف سے زائد اب غزہ پٹی کے جنوب میں رفح کے علاقے میں موجود ہے۔ غزہ پٹی کا یہ آخری شہر ہےجہاں اب تک اسرائیل نے وسیع تر زمینی کارروائی کا آغاز نہیں کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کہہ چکے ہیں کہ اس شہر پر بھی چڑھائی کی جائے گی۔ متعدد ممالک کی جانب سے اسرائیلی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی بڑی تعداد شمال سے جنوب کی جانب ہجرت پر مجبور ہوئی ہے اور رفح شہر میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں عام شہری بڑی تعداد میں متاثر ہو سکتے ہیں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *