April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/viscomemoryfoammattress.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت سے مولانا آزاد ایجوکیشن فائونڈیشن کو بند کرنے کے فیصلہ پر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یاد رہے کہ اس معاملے کی دوبارہ سماعت ہوگی۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ مرکزی وقف کونسل کی تجویز پر عمل درآمد کرتے ہوئے وزارت اقلیتی امور نے فاؤنڈیشن کو بند کر دیا تھا۔

Photo: INN

تصویر: آئی این این

دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو مرکزی حکومت سے مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن (‏ ایم اے ای ایف ) کو بند کرنے کے اس کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی کا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 
درخواست کی سماعت کرتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس منموہن اور جسٹس منمیت پریتم سنگھ اروڑہ کی ڈویژن بنچ نے سرکاری وکیل سے حکومت سے ہدایت طلب کرنے اور ۷؍مارچ کو جواب داخل کرنے کی تاکید کی۔ یاد رہے کہ اس معاملے کی دوبارہ سماعت ہوگی۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ مرکزی وقف کونسل کی تجویز پر عمل درآمد کرتے ہوئے وزارت اقلیتی امور نے فاؤنڈیشن کو بند کر دیا تھا۔ 
وقف کونسل اگرچہ ملک میں وقف اوقاف سے متعلق معاملات کو کنٹرول کرنے والی ایک قانونی تنظیم سمجھی جاتی ہے لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں وقف املاک کو بھونڈے طریقے سے استعمال کرکے برسراقتدار پارٹی کے ایجنڈوں کا کھلے عام ساتھ دینے کیلئے متنازع رہی ہے۔ 
 ایم اے ای ایف‏سرکاری مالی اعانت سے چلنے والی ایک تنظیم ہے جو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کیلئے مالی امداد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اس کی ایک اسکیم، مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ، اس سے قبل ۲۰۲۲ء میں مرکزی حکومت نے روک دی تھی۔ شہریوں کی ایک جماعت کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں ایم اے ای ایف کی بندش کو مکمل طور پر بدنیتی پر مبنی، من مانی اور آمرانہ قرار دیا گیا ہے۔ 
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ فاؤنڈیشن کے بند ہونے سے حقدار مستحقین بالخصوص لڑکیاں مختلف اسکیموں کے تحت دی جانے والی اسکالرشپ سے استفادہ کرنے سے محروم ہوجائیں گی۔ تحلیل کے عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر بھی قانونی چارہ جوئی کی طرف سے شدید تنقید کی گئی کیونکہ اقلیتی وزارت نے ایم اے ای ایف کے بقیہ فنڈز بھی سی ڈبلیو سی کو منتقل کر دیئے ہیں جو ایک بالکل مختلف نو کی تنظیم ہے۔ 
سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ ۱۸۶۰ء کے تحت کسی بھی رجسٹرڈ سوسائٹی کو تحلیل کرنے کا عمل ایکٹ کے سیکشن ۱۳؍کے مطابق اس سوسائٹی کے تین پانچویں (تھرڈ ففتھ) ممبران کی تجویز سے شروع کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس کے اثاثے بھی اسی طرح منتقل کئے جاتے ہیں ۔ اسی طرح کی سوسائٹی کا بھی سیکشن ۱۴؍کے تحت تین پانچویں اراکین کے ووٹ سے تعین کیا جائے گا۔ 
۷؍ فروری ۲۰۲۴ء کا آفس آرڈر نہ صرف یہ کہتا ہے کہ ایم اے ای ایف‏کو خود کو تحلیل کر دینا چاہئے بلکہ یہ رائے بھی متعین کررہا ہے کہ ایم اے ای ایف‏کے باقی فنڈز کو منتقل کر دیا جائے گا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے تقویتی فنڈ اور اس کے طے شدہ اثاثے سی ڈبلیو سی کو منتقل کرنا، سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ، ۱۸۶۰ء کے تحت قائم کردہ قانونی نظام کی واضح اور سراسر خلاف ورزی ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *