April 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/viscomemoryfoammattress.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

Photo: INN

تصویر: آئی این این

اسلامو فوبیا کے خلاف جنگ طویل اور مشکل ہے لیکن مسلمانوں کا کئی گروہ اپنی شناخت اور عقیدے پر مسلسل حملوں کا منکر ہے۔ ترکی اس رجحان کا مقابلہ کرنے کیلئے عالمی سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، ایذا رسانی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ترکی، پاکستان اور ملائیشیا جیسے دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے ۲۰۲۲ء میں ۱۵؍مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دیا تھا۔ 
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں ایک بندوق بردار نے ۵۱؍نمازیوں کو ہلاک اور۴۰؍ کو زخمی کردیا تھا، اس واردات کو بھی پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ 
اسلامو فوبیا اپنےو جود میں ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ کچھ دوسرے مسلم ممالک کے ساتھ مل کر ترکی اس مسئلے پر مسلمانوں کی آواز بن گیا ہے۔ ترک جرمن یونیورسٹی کے اسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اینیس بائراکلی جو یورپی اسلامو فوبیا رپورٹ کے شریک ایڈیٹر بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ ترکی اسلامو فوبیا کی پرزور مذمت کر رہا ہے خاص طور پر اہم اس لئےہے کیونکہ بہت سے مغربی لیڈر خاص طور پر یورپ میں، اس لفظ کا ذکر تک کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ 
اعلیٰ سفارتی فورمز پر اس مسئلہ کو اجاگر کرناا ن (مغربی) حکومتوں پر اس مسئلے کو تسلیم کرنے نیز دباؤ ڈالنے کیلئے واقعی اہم ہے۔ نفرت انگیز مواد کی جغرافیائی شناخت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسلامو فوبیا بڑھ رہا ہے۔ مغربی یورپ میں ۲۰۲۲ء میں قرآن کریم کا نسخہ نذر آتش کرنے کے واقعات کی تعداد ۱۵؍سے بڑھ کر ۲۰۲۳ء میں ۵۰۷؍ ہو گئی۔ قرآن مجید کی بے حرمتی کے ان واقعات کی اکثریت (۴۴۷) ڈنمارک میں ہوئی۔ 
اسی طرح یورپ میں مساجد پر حملوں کی تعداد ۲۰۲۲ء میں ۳۴؍ سے دگنا ہو کر۲۰۲۳ء میں ۶۸؍ ہو گئی۔ جرمنی میں ایسے ۵۲؍ واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ آسٹریلیا میں قائم ایک تنظیم اسلامک کونسل آف وکٹوریہ کی طرف سے شائع کی گئی ایک تحقیق میں اگست ۲۰۱۹ء اور اگست ۲۰۲۱ءکے درمیان ’ایکس‘ پر کی جانے والی ۷ء۳؍ ملین سے زیادہ اسلامو فوبک پوسٹس کو ظاہر کیا گیا ہے۔ مزید یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے تقریباً ایک سال کے بعد محض ۸ء۱۴؍ فیصد مسلم مخالف پوسٹس کو ہٹایا۔ اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ تقریباً ۸۶؍ فیصد جغرافیائی بنیادوں پر مسلم مخالف پوسٹس کی ابتداء ہندوستان، امریکہ اور برطانیہ سے ہوتی ہے۔ 

ترکی کی مذمت
ترکی نے ان واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے گزشتہ سال کے آخر میں عالمی لیڈروں کے ایک گروپ کو بتایا کہ ’’بین الاقوامی دہشت گردی کے ساتھ اسلام کے خلاف دشمنی میں اضافہ اور پھیلاؤ تشویشناک ہے۔ ان منفی پیشرفتوں نے ہمیں ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ ہمیں مزید یکجہتی، ایک دوسرے کو سمجھنے اور رواداری کی ضرورت ہے۔ ‘‘ ترکی نے اقوام متحدہ، یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم، ‏ اسلامی تعاون کی تنظیم اور اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے یورپ کی کونسل جیسے بین الاقوامی فورمز پر مختلف لائحہ عمل کی قیادت کی ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال جولائی میں اقوام متحدہ کی طرف سے منظور کی گئی ایک قرارداد میں قرآن کریم کے نسخے کو جلانے کی مذمت کی گئی تھی اور اس طرح کی کارروائیوں کو ’’مذہبی منافرت‘‘ سے تعبیر کیا گیا تھا۔ ۲۵؍جولائی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک الگ قرارداد میں مقدس کتابوں کی بے حرمتی کی تمام کارروائیوں کی مذمت کی گئی اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ 
بائراکلی‏کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اسلامو فوبیا کے مسئلے کو اجاگر کرنے والے ترکی کی خاطر خواہ پذیرائی نہیں کی گئی۔ پاکستان اور ملائیشیا جیسے ممالک کے ساتھ عالمی اتحاد قائم کرنا جو اس مسئلے پر یکساں طور پر آواز اٹھا رہے ہیں، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 
وہ کہتے ہیں کہ فی الحال بہت سے یورپی ممالک اس قسم کے نفرت انگیز جرائم کا اندراج بھی نہیں کرتے ہیں۔ وہ اس معاملے پر سرکاری اعداد و شمار شائع نہیں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کثیرالجہتی فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کرنے سے عالمی سطح پر بیداری آئے گی۔ 
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے دی برج انیشی ایٹو کے سینئر محقق فرید حفیظ کا کہنا ہے کہ فرانس جیسے ممالک پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ ڈالا جانا چاہئے جنہوں نے اسلامو فوبیا کو ادارہ جاتی شکل دی ہے۔ کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے، فرید حفیظ کہتے ہیں کہ اس نے مسلم معاشرہ کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کی اجازت دی ہے جو مغرب میں اسلامو فوبیا سے نبرد آزماہے۔ ‏
کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم ایک تصور کے طور پر نہ صرف تشدد کو اپنا رہا ہے بلکہ اس نے کئی یورپی قومی ریاستوں کو حجاب پہننے سے لے کر مساجد تک، مذہب اسلام کومجرم قرار دینے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا کہ (بین الاقوامی) دباؤ کے بغیر، یورپی حکومتوں کو اپنی روایتی سیاست کو ترک کرنے کی کوئی ترغیب نہیں ملے گی۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *